Sunday, 19 March 2023

Romana Shah blog


 جب وہ آکر میرے شہر سے کے لوٹ جاتا ہے. ہوائیں بھی اسکی غیر موجودگی کو محسوس کرتیے ہوئے احتجاج کرنے لگتی ہیں. کبھی  کبھی تو احتجاجاً آسمان بھی برس پڑتا ہے. ایسے ہی جیسے آج کھل کر برس رہا ہے. تمہیں بتا رہا ہے کل تم گئے ہو تو آج میں بھی نہیں رک سکا اور برس پڑا ہوں. اسکی آمد سے ہواؤں میں جو محبت گھلتی  ہے وہ شہر کی ہر مظہر کو حیات بخشتی ہے. شہر میں موجود پھول کھل اٹھتے ہیں. یہاں موجود ہر شے کو جیسے نئی زیست مل گئی ہو. اسکی ہجرت ہر چیز پر ہی گرا گزرتی ہے. میرے شہر کی ہوائیں اُن  ہواؤں سے حسد کرنے لگی ہیں جن میں وہ سانس لیتا ہے. میرے شہر کی ہر شے اس شہر سے عداوت رکھتی ہے جس کا وہ مکین ہے. جب چاند پر نظر پڑتی ہے اُس چاند پر رشک آتا ہے جسے وہ گھنٹوں دیکھتا ہو گا٠ جیسے وہ ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر چاند کو دیکھتا ہے نا بلکل اسی طرح میں پہروں اسکے چہرے کو تکا کرتی تھی ان بچوں کی طرح جو شیشے کے اس پار موجود کسی قیمتی شے کو دیکھتے ہیں لیکن اس تک انکی رسائی نہیں ہوتی. جو وہ کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ شیشے پر حسرت سے ہاتھ پھیر کر دل کو خوش کر لیتے ہیں. میں بھی تمہیں موبائل کی سکرین کے اس پار دیکھا کرتی شیشے پر ہاتھ پھیر کر تمہیں محسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتی تھی. لیکن کبھی کبھی ان بچوں پر بھی کسی کو ترس آ ہی جاتا ہے  انکی من پسند چیز اور اُن کے درمیان فاصلہ ختم کر دیا جاتا ہے. بلکل ایسے ہی جیسے مجھ پر ترس کھا لیا گیا تھا مہر کر دی گئی تھی. اور کسی نے میرے کان میں آکر پکارا تھا "شریکِ حیات بنے گی میری.؟؟ " ❤️


تحریر رومانہ شاہ ✍️

1 comment:

Featured Post

Da Mini Safar by Romana Shah | Complete Novel

Damini Safar By Romana Shah |Complete Novel |Download Here